خلاصہ کلام:
صبح کی نیند کے ممنوع ہونے کے بارے میں صراحتا جو روایات وارد ہیں وہ اگرچہ سند کے اعتبار سے بہت ضعیف ہیں، لیکن عمومی روایات اور تعامل سلف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صبح کی نیند ناپسندیدہ عمل ہے، لہذا اس سے اجتناب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیئے، البتہ خاص حالات ، اورعذر کی حالت اس سےمستثنی ہے، اور اس کے متعلق اباحت کی صحیح روایات اور صحابہ کرام کا عمل موجود ہے۔ اشخاص اور حالات کے اعتبار سے بھی حکم مختلف ہوگا ۔
لیکن افسوس ہے کہامت کے بعض افراد نے صبح کے بعد سونا زندگی کا لازمی حصہ بنایا ہوا ہے۔آج معاشرے کا ہر فرد رزق کے بارے میں پریشان ہے،کما کما کے تھک جانے کے بعد بھی دلی سکون کے نہ ہونے اور ضروریات کے پورا نہ ہونے نے دل دماغ کو بوجھل کر دیا ہے۔ معاشیات کی نظر سے اس کا ذمہ افراط وتفریط زر کو بھی بنایا جا سکتا ہے، لیکن سوچئے تو سہی اور کیا کمی ہے؟ وہ کمی نبی کی تعلیم پر عمل نہ کرنا ہے ۔ پھر ایسی غفلت پر اگر رزق کی پریشانی ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟َ
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں مارکیٹوں کا مزاج ہی رات گئے تک کاروبار کرنا اور صبح دیر سے کھولنا بن گیا ہے، لیکن کیا اس کا حل صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا ہے۔ یقیناً جواب نفی میں ہے تو اس دعوت کو عام کیجیے، مارکیٹ کلچر تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔ سو مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ بس ذرا ہمت کی ضرورت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ :فجر کے بعد کے چھ گھنٹے استعمال کرنیوالے شخص کے دن روشن، پرسکون ہوتے ہیں، جب کہ دیر سے اُٹھنے والے کے بوجھل اور ناکامیوں سے عبارت۔اللہ نے کائنات کو ایک فطرت، ایک قانون کے تحت خلق کیا ہے، سورج صبح طلوع ہوتا ہے، تاریکی کو روشنی میں بدل دیتا ہے، اس کی کرنوں سے پھول کھلتے، فضائیں مہکتی ہیں، سبزہ چرند پرند قوت و افزائش حاصل کرتے ہیں۔ جس طرح سورج دوپہر کو طلوع نہیں ہو سکتا، انسان بھی دوپہر کو جاگ کر کامیابی و سکون حاصل نہیں کر سکتا۔
فجر کے بعد کے چھ گھنٹوں کی مثال ہماری نوجوانی کی ہے، جس طرح نوجوانی کا دور ہماری زندگی کا بہترین صلاحیتوں سے بھرا خوابوں کو حقیقت بنانے کا دور ہوتا ہے، اسی طرح چوبیس گھنٹوں کی نوجوانی صبح کے یہ چھ سات گھنٹے ہیں، جن کے استعمال سے ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔
اس وقت انسان کو فطرت کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ بہتر فیصلے کرتا ہے، جبکہ صبح کے گھنٹوں کو سو کر برباد کرنا ایسے ہی ہے جیسے انسان نوجوانی کو سو کر ضائع کر ڈالے۔طلوع ِ آفتاب کے وقت جاگنے میں ہی صحت، سکون، ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
دنیا کی کامیاب قومیں فطرت کے اسی اصول ’’جلدی سونا، منہ اندھیرے جاگنا‘‘ کے تحت ہی ترقی و ایجادات کی منازل طے کر سکیں۔ چین، جاپان، امریکا، یورپ ہر جگہ لوگ صبح سویرے دن کا آغاز کرتے ہیں۔
جو قومیں خندہ پیشانی سے جاگتے ہوئے صبح کا استقبال کرتی ہیں، وہی اس سے بیش بہا فوائد حاصل کرتی ہیں۔ ہمارا دھیان ابھی تک اس باریک اور انتہائی اہم نقطے کی جانب نہیں گیا کہ رات کے اندھیروں میں بلاوجہ جاگنا ہمیں سوائے اندھیروں کے کہیں نہیں پہنچائے گا۔ روشن مستقبل کے لیے ہمیں روشن صبح کا انتخاب کرنا ہو گا، جو کہ ترقی یافتہ اقوام کا طرزِ حیات ہے۔
مگرجو لوگ دن کا بہترین وقت سو کرگزار دیں وہ کبھی ترقی کرسکتے، نہ ہی نفسیاتی جسمانی الجھنوں سے آزاد خوشگوار زندگی گزارسکتے ہیں۔
بحیثیت والدین بھی ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنی اولاد کو صبح جلد اُٹھنے کے اس بہترین ہتھیار سے ابھی سے لیس کریں ،جو کہ انھیں اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے کل شدت سے درکار ہو گا۔
ہماری ذمہ داری ہے کہمعاشرے میں موجود غلط روایات کو مثبت طرز ِزندگی میں بدلنے کے لیے اقدامات کریں ،تا کہ ہم بھی فطرت سے ہم آہنگ ہو کر بھرپور، پُرسکون اور کامیاب زندگی بسر کرسکیں۔
والله اعلم بالصواب
